نئی دہلی، 28؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس نے گرچہ اتر پردیش میں شیلا دکشت کو وزیر اعلی کے عہدے کے لیے پارٹی امیدوار اعلان کر دیا ہو لیکن گجرات کے لیے اس کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پارٹی لیڈر متحد ہو کر انتخابات لڑے، کانگریس گجرات میں وزیر اعلی کے عہدے کے لیے اپنے امیدوار کا اعلان شاید نہیں کرے گی۔کانگریس 1989سے ریاست میں اقتدار سے باہر ہے، گجرات کو اکثر بی جے پی کی ہندوتو کی لیبارٹری کہا جاتا ہے۔وزیر اعلی کے عہدے کے لیے کانگریس میں کئی امیدوار ہیں جن اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلی شنکر سنگھ واگھیلا بھی شامل ہیں۔واگھیلا مختصر مدت کے لیے گجرات کے وزیر اعلی بنے تھے۔اس وقت انہوں نے بی جے پی چھوڑنے کے بعد ایک علاقائی پارٹی تشکیل دی تھی اور کانگریس کی حمایت سے وزیر اعلی بنے تھے، بعد میں انہوں نے اپنی پارٹی کی کانگریس میں ضم کر دیا ۔
سابق مرکزی وزیر اور موجودہ ریاستی کانگریس صدر بھرت سنگھ سولنکی بھی وزیر اعلی کے عہدے کے دعویدار ہیں۔بھرت سنگھ کے والد اور سابق وزیر اعلی مادھوسنگھ سولنکی کو تقریبا 30سال پہلے کھام، چھتریہ، ہریجن، قبائلی اور اقلیتوں کا فاتح اتحاد بنانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔اسی طرح آل انڈیا کانگریس کمیٹی(اے آئی سی سی) کے ترجمان اور ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف کے سابق لیڈر شکتی سنگھ گوہل بھی دعویداروں میں شامل ہیں۔وہ طویل عرصے سے مودی کے سب سے زیادہ سخت ناقدین میں رہے ہیں۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ پارٹی امیدوار کا اعلان اس لیے نہیں کرنا چاہتی ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اس سے ایسے وقت میں پارٹی میں گروپ بندی اور اختلاف کو فروغ ملے گا ، جب پنچایت انتخابات میں بی جے پی نے دیہی علاقوں میں اپنی عوامی بنیاد کانگریس کے ہاتھوں گنوا دی ہے۔گزشتہ سال ہوئے انتخابات میں کانگریس نے 31میں سے 21ضلع پنچایتوں میں متاثر کن جیت درج کی تھی جبکہ بی جے پی کو صرف 6 ضلع پنچایتوں میں کامیابی ملی تھی ، باقی میں منتشر مینڈیٹ ملا۔